اسلامی جمہوریہ ایران

بیر کے ایک اسکول میں مسلح افراد کے حملے میں آئی آر جی سی کی حمایت یافتہ فاطمیون بریگیڈ کے سات اہلکار ہلاک

یروشلم پوسٹ کے حوالے سے حال وش نے اطلاع دی ہے کہ ضلع کنارک کے علاقے بیر میں ایک اسکول کو بطور اڈا استعمال کرنے والے کم از کم سات فاطمیون جنگجو اور ایک حملہ آور اس وقت ہلاک ہو گئے جب موٹر سائیکل پر سوار دو حملہ آوروں نے دھاوا بول دیا۔ آئی آر جی سی کی ملکیت والی تسنیم ایجنسی نے اس حملے کا ذمہ دار جیش العدل کو ٹھہرایا ہے۔

Eitan Ben-Davidدشمن: دہشت گرد تنظیمیں

2 منٹ کا مطالعہ

حال وش نامی انسانی حقوق کے نگراں ادارے کے حوالے سے یروشلم پوسٹ نے 3 نومبر کو خبر دی ہے کہ پیر کے روز ایران کے صوبے سیستان و بلوچستان میں جنگجوؤں کے اڈے کے طور پر استعمال ہونے والے ایک اسکول میں جھڑپوں کے دوران فاطمیون بریگیڈ کے کم از کم سات ارکان اور ایک مسلح حملہ آور ہلاک ہو گئے۔ یروشلم پوسٹ نے فاطمیون کو سپاہ پاسدارانِ انقلابِ اسلامی (آئی آر جی سی) کی مالی اعانت اور تربیت یافتہ شیعہ ملیشیا قرار دیا ہے، جو بنیادی طور پر افغان شہریوں پر مشتمل ہے۔

دو موٹر سائیکلیں، ایک اسکول اور ایک ملیشیا

حال وش کی رپورٹ کے مطابق نامعلوم مسلح افراد نے ضلع کنارک کے دیہی علاقے کاہیری کے گاؤں بیر میں واقع سفلیٰ اسکول میں قائم اڈے پر حملہ کیا۔ ذرائع نے مانیٹرنگ گروپ کو بتایا کہ پیر کی شام چار بجے دو مسلح موٹر سائیکل سوار گاؤں میں داخل ہوئے اور اسکول میں تعینات فاطمیون فورسز پر اندھا دھند فائرنگ کر دی۔ سات یا اس سے زائد فاطمیون اہلکاروں کی ہلاکت کے علاوہ کئی افراد کے شدید زخمی ہونے کی اطلاع ہے جنہیں ایمبولینس کے ذریعے منتقل کیا گیا۔ اس دوران ایک حملہ آور بھی مارا گیا۔

حال وش نے حملہ آوروں کا نام ظاہر نہیں کیا۔ آئی آر جی سی کی ملکیتی تسنیم نیوز ایجنسی کا کہنا تھا کہ ان کا تعلق جیش العدل سے ہے، جو پاک ایران سرحد پر سرگرم بلوچ قوم پرست عسکریت پسند تنظیم ہے۔ تسنیم نے فاطمیون کی ہلاکتوں کی کوئی خبر شائع نہیں کی۔ اس نے ایک زخمی حملہ آور کا ذکر کیا جس کے بارے میں اس کا دعویٰ تھا کہ اس نے "فوجی اہلکاروں" پر حملہ کرنے کی کوشش کی تھی۔ اسکول کو اڈا بنانے کا حوالہ حال وش کی اس تفصیل سے سامنے آیا ہے کہ آئی آر جی سی کی افغان ملیشیا بیر میں کس طرح براجمان تھی: تدریسی کمروں کو ایک جنگی مورچے میں تبدیل کر دیا گیا تھا، جس پر بعد ازاں موٹر سائیکل سوار دو افراد نے حملہ کیا۔

بیر میں پیر کے روز ہونے والا واقعہ دراصل وہی چھاپہ ہے۔ آئی آر جی سی کی پراکسی، فاطمیون، ایک ایسے اسکول میں جانی نقصان سے دوچار ہوئی جسے وہ بطور اڈا استعمال کر رہی تھی۔ تسنیم نے اس کا الزام جیش العدل پر دھرتے ہوئے ہلاکتوں کی تعداد کو کم تر ظاہر کیا۔ حال وش نے کم از کم سات جنگجوؤں اور ایک مسلح حملہ آور کے مارے جانے کی تصدیق کی۔ یروشلم پوسٹ نے اس ایک ہی تصادم کے دونوں بیانات کو قارئین کے سامنے پیش کیا۔

حوالہ جات

  1. 1Gunmen kill seven members of IRGC-backed Fatemiyoun militia | The Jerusalem Postjpost.com

اس مضمون کے بارے میں

Eitan Ben-David Hasbara کے دشمن: دہشت گرد تنظیمیں ڈیسک کا قلمی نام ہے۔ ہر مضمون ماخذ پر مبنی اور حوالہ جات کے ساتھ ہے۔

ادارتی اور مصنوعی ذہانت کی پالیسی

اسلامی جمہوریہ ایران کے بارے میں مزید