کینیڈا میں قائم منی سروس فرموں پر باہمی ہم آہنگی سے پابندیاں
دی یروشلم پوسٹ اور ایرانی جریدے جوان آن لائن کی شائع کردہ رپورٹس کے مطابق، امریکہ اور کینیڈا نے ایران سے روابط کے الزام میں منی سروس کے آٹھ کاروباری اداروں پر مشترکہ طور پر پابندیاں عائد کر دی ہیں۔ یہ باہمی اقدامات تہران سے وابستہ مالیاتی اداروں کے خلاف دونوں ممالک کی ایک مشترکہ انضباطی کارروائی ہیں۔ امریکی محکمہ خزانہ کے جاری کردہ ایک سرکاری بیان میں امریکی حکام نے اعلان کیا کہ کینیڈا میں قائم ان آٹھ اداروں پر نئی پابندیاں عائد کی گئی ہیں جن کے روابط تہران سے ہیں۔
کینیڈا کے شہروں میں نشانہ بنائے گئے ادارے اور ڈیجیٹل والٹس
جوان آن لائن کی رپورٹ کے مطابق، امریکی محکمہ خزانہ کے بیان کا بنیادی مرکز کینیڈا کے یہ آٹھ ادارے تھے۔ ایرانی جریدے کے مطابق، امریکی حکام کا دعویٰ ہے کہ یہ کمپنیاں اور ان کے ڈیجیٹل والٹس ایران کے مالیاتی نیٹ ورکس سے رابطے برقرار رکھے ہوئے ہیں۔ متاثرہ کاروباری سرگرمیاں کینیڈا کے تین بڑے میٹروپولیٹن مراکز میں واقع ہیں، جہاں امریکی حکام نے خاص طور پر ٹورنٹو، وینکوور اور مانٹریال میں موجود ان کاروباری اداروں اور ڈیجیٹل والٹس کا حوالہ دیا ہے جن کے ایرانی نیٹ ورکس سے روابط ہیں۔
منی سروس کے آٹھ کاروباری اداروں کے ساتھ ساتھ ڈیجیٹل والٹس کو شامل کرنا اس مشترکہ کارروائی کی وسعت کو واضح کرتا ہے۔ جوان آن لائن میں شائع ہونے والے امریکی محکمہ خزانہ کے بیان کی تفصیلات کے مطابق، ٹورنٹو، وینکوور اور مانٹریال میں نشانہ بننے والے کارپوریٹ اداروں اور ان کے ڈیجیٹل والٹ سسٹمز کی شناخت امریکی حکام نے ایران کے مالیاتی نیٹ ورکس سے تعلق رکھنے والے عناصر کے طور پر کی ہے۔
ڈالر سسٹم سے بیدخلی اور امریکی اثاثوں کا انجماد
دی یروشلم پوسٹ کے مطابق، ان مربوط پابندیوں نے منی سروس کی ان آٹھوں فرموں کا ڈالر پر مبنی مالیاتی نظام سے رابطہ عملی طور پر منقطع کر دیا ہے۔
ان فرموں کو ڈالر پر مبنی مالیاتی نظام سے الگ کرنے کے علاوہ، اس نفاذی کارروائی کے تحت ان تمام اثاثوں کو بھی منجمد کر دیا گیا ہے جو ان ہدف بنائے گئے اداروں کے امریکہ میں موجود ہو سکتے ہیں۔ جیسا کہ دی یروشلم پوسٹ نے رپورٹ کیا، منی سروس کی ان آٹھوں فرموں کے امریکہ میں موجود تمام اثاثے منجمد کر دیے گئے ہیں۔