ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 25 اکتوبر کو مشی گن کی ریلی میں ڈیموکریٹک سینیٹ امیدوار عبدال السید کو “جہادی اخوان المسلمون کا رکن” کہہ کر انتخابی حملے میں اخوان المسلمون کو استعمال کیا۔ ٹرمپ کے دعوے نے بین الاقوامی اسلام پسند تحریک کو امریکی انتخابی مقابلے میں لا کھڑا کیا، مگر مضمون نے الزام اور تصدیق شدہ شواہد میں فرق کیا۔
AP نے رپورٹ کیا کہ السید کے اخوان المسلمون سے کسی وابستگی کا کوئی ثبوت نہیں تھا۔ اس نے بتایا کہ ریپبلکنز نے انتخابی مہم کے آخری ہفتوں میں انہیں تحریک سے جوڑنے کی کوشش کی تھی۔ AP کے مطابق السید امریکہ میں مصری تارکین وطن والدین کے ہاں پیدا ہوئے اور ان کی پرورش ان کے والد نے کی۔ سیاسی مخالفین کے حوالے کردہ مواد میں ان کی سوتیلی بہن کی اپنے خاندان اور تنظیم کے بارے میں پرانی سوشل میڈیا پوسٹس بھی شامل تھیں؛ یہ پوسٹس ثابت نہیں کرتیں کہ السید تحریک کے رکن تھے یا اس کی حمایت کرتے تھے۔
انتخابی دعوے اور دستاویزی ریکارڈ
ان ریمارکس سے پہلے ریپبلکن سینیٹ امیدوار مائیک راجرز نے السید کی وفاداری پر سوال اٹھائے اور اخوان سے متعلق دعوے دہرائے تھے۔ AP کے مطابق السید نے اس انداز کو شرمناک کہہ کر مسترد کیا۔ خبر میں عرب امریکی رہنماؤں اور سینیٹر برنی سینڈرز کی تنقید بھی درج ہے، جنہوں نے بیان بازی کو تفرقہ انگیز قرار دیا۔ یہ ان سے منسوب ردعمل ہیں، تنظیم کے بارے میں نتائج نہیں۔
یہ فرق اہم ہے کیونکہ “اخوان المسلمون” سے مراد مختلف قومی شاخوں والی تحریک ہے اور حکومتوں کے قانونی تعینات ہر شاخ کے لحاظ سے مختلف ہیں۔ AP کی رپورٹنگ کو السید کے معاملے میں ایسے تعلق کا کوئی ثبوت نہیں ملا۔
یہ واقعہ کیوں اہم ہے
یہ انتخابی واقعہ دکھاتا ہے کہ کسی نامزد تنظیم کو ملکی سیاسی پیغام رسانی میں اس وقت بھی لایا جا سکتا ہے جب رپورٹنگ کسی ذاتی تعلق کی تصدیق نہ کرے۔ قابلِ تصدیق واقعہ ٹرمپ کا عوامی الزام اور اس سے پیدا ہونے والا سیاسی ردعمل ہے۔ اس بیان میں خود اخوان المسلمون کا کوئی دعویٰ رپورٹ نہیں ہوا، اور کہانی انتخابی مہم میں تنظیم کا کوئی کردار ثابت نہیں کرتی۔
ریمارکس، انتخابی پس منظر اور ردعمل کے لیے ایسوسی ایٹڈ پریس کی رپورٹ پڑھیں۔