اسرائیل پولیس نے منگل کو اعلان کیا کہ خفیہ بارڈر پولیس اہلکاروں نے پیر کی رات سامریہ کے علاقے کفر دان میں حملوں کی منصوبہ بندی کے شبہ میں فتح کے ایک مطلوب دہشت گرد کو گرفتار کر لیا، جیسا کہ JNS نے رپورٹ کیا۔ فورس کے مطابق، مشتبہ شخص دیگر دہشت گردوں کے ساتھ رابطے میں تھا اور کافی عرصے سے سیکورٹی فورسز سے روپوش تھا۔
کپڑوں کی دکان میں ہاتھ کھڑے کر کے گرفتاری
اہلکاروں نے کپڑوں کی اس دکان کو گھیرے میں لے لیا جہاں مبینہ طور پر وہ چھپا ہوا تھا اور اسے خود کو حوالے کرنے کی تنبیہ کی۔ وہ ہاتھ اٹھائے باہر نکل آیا اور اسے موقع پر ہی گرفتار کر لیا گیا۔ فورسز نے دکان کے مالک کو بھی گرفتار کیا جس پر مفرور کو پناہ دینے کا شبہ ہے۔ پولیس کے مطابق تلاشی کے دوران موبائل فونز اور دیگر سامان برآمد ہوا۔ دونوں ملزمان کو مزید تفتیش کے لیے اسرائیلی سیکورٹی فورسز کے حوالے کر دیا گیا۔
کفر دان شمالی سامریہ میں جنین کے قریب واقع ہے۔ پولیس نے مطلوب شخص کو فتح کا کارندہ قرار دیا جو اس علاقے میں حملوں کو فروغ دے رہا تھا — یعنی فتح ایک مسلح مقامی نیٹ ورک کے طور پر، نہ کہ سفارتی شناخت کے طور پر۔ یہ دکان ایک کمین گاہ تھی: ایک تجارتی جگہ جسے مفرور کو چھپانے کے لیے استعمال کیا جا رہا تھا جب تک کہ خفیہ بارڈر پولیس نے اسے چاروں طرف سے گھیر نہیں لیا۔ مالک کی گرفتاری اس مبینہ لاجسٹک معاونت کے تناظر میں عمل میں آئی۔ دکان سے تحویل میں لیے گئے فون موقع سے برآمد شدہ شواہد ہیں، کوئی الگ کارروائی نہیں۔
پیر کی رات کفر دان میں یہی گرفتاری عمل میں آئی۔ فتح کا ایک مطلوب شخص ہاتھ اٹھائے کپڑوں کی دکان سے باہر نکل آیا۔ دکان کا مالک بھی اس کے ساتھ گرفتار ہوا۔ پولیس نے منگل کے روز دونوں گرفتاریوں کا اعلان کیا۔ JNS نے یہ بیان جاری کیا۔ یہ تھی پوری کارروائی۔