اسرائیلی دفاعی افواج نے کہا کہ 14 اور 15 اکتوبر کو غزہ میں فضائی حملوں میں حماس کے دو فوجی کمانڈر مارے گئے جو 7 اکتوبر 2023 کو اسرائیل پر حملے میں شریک تھے۔ Times of Israel نے رپورٹ کیا کہ حماس نخبا سیل کے کمانڈر ماہر ولید عمر الحسینی بدھ کے حملے میں مارے گئے۔ فوج کے مطابق انہوں نے 2023 کے حملے میں رئیم اڈے پر حملہ کیا تھا اور حال ہی میں اسرائیلی فوجیوں اور شہریوں پر حملوں کے منصوبے آگے بڑھائے تھے۔
شمالی غزہ میں جمعرات کے ایک الگ حملے میں محمد محمد عبدالخالق ہلا مارے گئے، جنہیں فوج نے حماس کے اسلحہ سازی ڈویژن کا کمانڈر بتایا۔ IDF نے کہا ہلا نے ہتھیار بنائے اور غزہ بھر میں حماس کی فوجی صلاحیت بحال کرنے میں مدد دی۔ یہ بیانات اور الزامات فوج سے منسوب ہیں؛ رپورٹ میں ان کی حالیہ سرگرمی کا آزادانہ بیان شامل نہیں تھا۔
یہ حملے اکتوبر 2025 کی جنگ بندی کے بعد غزہ میں حماس ارکان کے خلاف اسرائیلی کارروائیوں کے جاری سلسلے کا حصہ تھے۔ IDF نے کہا دونوں افراد اسرائیلی فوجیوں اور شہریوں کے لیے خطرہ دور کرنے کی خاطر مارے گئے اور ان کی سرگرمی کو جنگ بندی کی خلاف ورزی قرار دیا۔ شائع شدہ رپورٹ نے ان جائزوں کے پیچھے مخصوص انٹیلی جنس یا جنگ بندی کی شرائط بیان نہیں کیں۔
وقت اہم ہے کیونکہ حملوں نے 7 اکتوبر کی کارروائی سے منسلک شخصیات کے ساتھ گروہ کے ہتھیاروں اور زمینی ڈھانچے کو بھی نشانہ بنایا۔ IDF نے کہا اس کی مہم ان افراد پر مرکوز ہے جنہیں وہ حماس کی قوت دوبارہ بنانے میں مصروف سمجھتا ہے۔ یہ فوج کی بیان کردہ وجہ ہے؛ عوامی روداد یہ ثابت نہیں کرتی کہ حماس کی کتنی صلاحیت بحال ہوئی یا حملوں کا اس پر کیا اثر پڑا۔
Times of Israel نے یہ بھی رپورٹ کیا کہ 15 اکتوبر کو خان یونس میں ایک الگ حملے میں فلسطینی اسلامی جہاد کا ایک رکن مارا گیا۔ یہ ہلاکت ایک مختلف مسلح گروہ سے منسوب ہے اور الگ رپورٹ کی گئی ہے۔ امریکی محکمہ خارجہ کی عوامی فہرست کے مطابق حماس اب بھی ایسی تنظیم ہے جسے امریکہ نے غیر ملکی دہشت گرد تنظیم قرار دیا ہے۔