یہ دعوے کہ امریکی انتظامیہ وزیرِ اعظم بینجمن نیتن یاہو کی لیکوڈ پارٹی اور اپوزیشن لیڈر گیڈی آئزن کوٹ کے مابین قبل از وقت اتحادی معاہدہ کروانے میں سرگرم عمل ہے، اسرائیل کے قانونی فریم ورک، سیاسی جماعتوں کے دوٹوک عوامی مؤقف اور باضابطہ سفارتی ریکارڈ سے مطابقت نہیں رکھتے۔ بیرونی ضمانت پر مبنی قومی یکجہتی کے معاہدے کی افواہیں—جن میں نیتن یاہو کے لیے ریٹائرمنٹ سے قبل مزید دو سال کے اقتدار کا دعویٰ کیا گیا ہے—اسرائیل کی پارلیمانی جمہوریت کے بنیادی قواعد اور اپوزیشن کے اسٹریٹجک بیانیے دونوں کے یکسر برعکس ہیں۔
اسرائیل میں حکومت سازی کے آئینی قواعد و ضوابط
اسرائیل کے بنیادی قانون (دی گورنمنٹ) کی رو سے، انتخابات سے قبل کوئی بھی مقامی دھڑا یا بیرونی حکومت کسی حکومتی اتحاد کو حتمی شکل نہیں دے سکتی۔ اسرائیل ایک پارلیمانی جمہوری نظام رکھتا ہے جہاں شہری براہِ راست انتظامی سربراہ کے بجائے پارٹی فہرستوں کو ووٹ دیتے ہیں۔ مرکزی الیکشن کمیشن کی جانب سے انتخابی نتائج کی باضابطہ توثیق کے بعد، صدرِ اسرائیل—جس عہدے پر اس وقت صدر آئزک ہرزوگ فائز ہیں—نئی منتخب ہونے والی تمام کنیسٹ جماعتوں کے نمائندوں سے لازمی مشاورتی عمل مکمل کرتے ہیں۔ ان سرکاری مشاورتوں کے بعد ہی صدر اس قانون ساز کو باقاعدہ مینڈیٹ تفویض کرتے ہیں جسے 120 رکنی کنیسٹ میں 61 نشستوں کی سادہ اکثریت حاصل کرنے کی سب سے زیادہ اہلیت حاصل ہو۔
اتحادی حکومت کی تشکیل ایک پیچیدہ اور باضابطہ مذاکراتی عمل کی متقاضی ہوتی ہے جس کا کنیسٹ سیکرٹریٹ میں اندراج، تحریری رہنما اصولوں پر دستخط اور پارلیمان سے اعتماد کا لازمی ووٹ لینا ضروری ہوتا ہے۔ پارلیمانی نشستوں کی حتمی تقسیم سے قبل نہ تو کوئی موجودہ وزیرِ اعظم اور نہ ہی کوئی غیر ملکی انتظامیہ وزارتی قلمدان بانٹ سکتی ہے، نہ باری باری اقتدار کے نظام کو نافذ کر سکتی ہے، اور نہ ہی کئی سال بعد ریٹائرمنٹ کی شرائط کی ضمانت دے سکتی ہے۔ انتخابی نتائج سے قبل کسی انتظامی روٹیشن کے معاہدے کا دعویٰ اسرائیلی آئینی قانون کے تحت قانونی اور عملی دونوں اعتبار سے نا ممکن ہے۔
اپوزیشن کے باضابطہ وعدے اور آئزن کوٹ کا غیر متزلزل مؤقف
یہ مفروضہ کہ اعتدال پسند جماعت یشار کے قائد گیڈی آئزن کوٹ نے نیتن یاہو کو اقتدار میں برقرار رکھنے کے لیے کسی امریکی مصالحتی فارمولے کی توثیق کی ہے، ان کے عوامی بیانات اور وعدوں کے بالکل برعکس ہے۔ اسرائیل ڈیفنس فورسز کے سابق چیف آف اسٹاف آئزن کوٹ، جنہوں نے 7 اکتوبر 2023 کے دہشت گردانہ قتلِ عام کے بعد ہنگامی جنگی کابینہ میں شمولیت اختیار کی تھی، جون 2024 میں نیتن یاہو کی جنگی حکمتِ عملی اور یرغمالیوں سے متعلق مذاکرات پر گہرے اختلافات کے باعث اس کابینہ سے مستعفی ہو گئے تھے۔ 27 اکتوبر 2026 کے عام انتخابات سے قبل اپوزیشن لیڈر کی حیثیت سے قومی سیاست میں قدم رکھتے ہوئے، انہوں نے اپنی انتخابی مہم کی بنیاد ہی ریاستی احتساب، حکومتی اصلاحات اور نیتن یاہو کو اقتدار سے ہٹانے کے اصول پر رکھی۔
ستمبر 2026 کے اواخر میں، آئزن کوٹ نے دیگر سرکردہ اپوزیشن رہنماؤں—جن میں یائر لاپیڈ، نفتالی بینیٹ، ایویگڈور لیبرمین، اور یائر گولان شامل ہیں—کے ساتھ مل کر لیکوڈ کا مقابلہ کرنے اور نیتن یاہو کے دورِ اقتدار کی مزید توسیع کو روکنے کے لیے ایک باقاعدہ مشترکہ معاہدے پر دستخط کیے۔ آئزن کوٹ نے قومی میڈیا کو دیے گئے انٹرویوز میں بارہا واضح کیا ہے کہ وہ نیتن یاہو کی زیرِ قیادت کسی حکومت کا حصہ نہیں بنیں گے اور روٹیشن کے تمام تر مجوزہ فارمولوں کو یکسر مسترد کرتے ہیں۔ ان کی پارٹی کے منشور میں 7 اکتوبر کی سیکیورٹی ناکامیوں کی آزاد ریاستی تحقیقاتی کمیشن کے قیام اور مستقبل کے وزرائے اعظم کے لیے سخت مدتِ اقتدار مقرر کرنے کا مطالبہ شامل ہے، جو نیتن یاہو کو مزید دو سال کی توسیع دینے کے تصور کی کھلی نفی ہے۔
امریکی پالیسی اور سفارتی غیر جانبداری
ٹرمپ انتظامیہ نے بھی اسرائیل کے داخلی اتحادی معاہدوں میں کسی قسم کی شمولیت کی باضابطہ تردید کی ہے۔ اگرچہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے نیتن یاہو کے ساتھ اپنے دیرینہ تعلقات اور ابراہام ایکارڈز اور ایران کے خلاف مشترکہ مزاحمت جیسے تاریخی اقدامات کا حوالہ دیا، تاہم انہوں نے انتخابات سے قبل عوامی سطح پر اس امر کا اعادہ کیا کہ حکومت کی تشکیل اسرائیل کا اندرونی جمہوری معاملہ ہے۔ اکتوبر 2026 کے وسط میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے واضح کیا کہ جہاں وہ نجی تائید کا جائزہ لے رہے ہیں، وہیں امریکہ انتخابات کے بعد کے سیاسی اتحادوں کی تشکیل میں ہرگز شامل نہیں ہے۔
امریکی سفارتی نمائندوں نے مسلسل اس مؤقف کو دہرایا ہے کہ واشنگٹن اسرائیلی عوام کی منتخب کردہ کسی بھی خود مختار حکومت کے ساتھ باہمی تعاون جاری رکھے گا۔ بیرونِ ملک طے پانے والے خفیہ معاہدوں—جیسے فلوریڈا سمٹ کی دعوتوں یا ریٹائرمنٹ کے طے شدہ جدول—کی افواہیں محض قیاس آرائیاں ہیں جن کا حقائق سے کوئی تعلق نہیں۔ اسرائیل کا توانا جمہوری عمل اور سیاسی مقابلہ اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ حکومتی اتحاد کسی بیرونی سفارتی ایما پر نہیں بلکہ خالصتاً کنیسٹ کی نشستوں اور اندرونی سیاسی مینڈیٹ کی بنیاد پر وجود میں آتے ہیں۔