2026 کی اسرائیل-ایران جنگ 28 فروری کو شروع ہوئی، جب اسرائیل اور امریکہ نے ایران میں حملے کیے۔ یہ کارروائی ناکام جوہری مذاکرات اور برسوں کے براہ راست اور بالواسطہ حملوں کے بعد ہوئی۔ ایران نے اسرائیل اور خطے کی دیگر ریاستوں پر میزائل اور ڈرون حملوں سے جواب دیا۔ 8 اپریل کو امریکہ اور ایران کے دو ہفتے کی جنگ بندی پر متفق ہونے کے بعد بڑی لڑائی رک گئی؛ اسرائیلی کارروائی کا نام Roaring Lion اور امریکی کارروائی کا نام Epic Fury تھا۔
حملوں سے پہلے کیا ہوا
ایران اور امریکہ نے 6 فروری کو عمان میں جوہری مذاکرات کیے۔ ایرانی وزیر خارجہ نے ملاقات کو اچھی ابتدا قرار دیا، تاہم کہا کہ مذاکرات کا جاری رہنا دونوں دارالحکومتوں میں مشاورت پر منحصر ہے۔ بعد کے مذاکرات جنیوا میں عمان کی سہولت کاری سے ہوئے۔ امریکی ایلچی Steve Witkoff نے کہا کہ مرکزی اختلاف ایران کا یورینیم افزودہ کرنے کے مبینہ حق پر اصرار اور امریکہ کا افزودگی روکنے کا مطالبہ تھا۔ یہ فریقین کے بیان کردہ مؤقف ہیں؛ پوشیدہ ارادوں کے دعووں کے لیے الگ شواہد درکار ہیں۔ سوئٹزرلینڈ نے تصدیق کی کہ جنیوا مذاکرات 28 فروری کے حملوں سے پہلے ہوئے تھے۔
اسرائیل اور امریکہ نے کہا کہ مہم کا ہدف ایران کے جوہری اور میزائل پروگرام اور فوجی صلاحیتیں تھیں۔ اس مہم سے یہ ثابت نہیں ہوا کہ ایران کی جوہری مہارت یا اس کی تمام فوجی صلاحیت ختم کر دی گئی تھی۔
مہم کے بارے میں سات سوالات
- ابتدائی حملوں میں کیا ہوا، اور خامنہ ای کی ہلاکت کے بعد کیا پیش آیا؟
- کن جوہری اور میزائل تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا، اور کس نقصان کی تصدیق ہوئی؟
- ایران نے اسرائیل پر کیسے حملے کیے، اور اسرائیل کے دفاع نے کیا جواب دیا؟
- جہاز رانی اور توانائی کی رسد پر کیا اثر پڑا؟
- جنگ کے دوران حزب اللہ اور حوثیوں نے کیا کیا؟
- کن سائبر کارروائیوں کی اطلاعات سامنے آئیں؟
Fox News نے فروری کے عمان مذاکرات اور ایران کے بیان کردہ مؤقف پر رپورٹ دی۔ بعد کے مذاکرات کے بارے میں Witkoff کا بیان افزودگی کے تنازعے اور امریکی پیشکش کی تفصیل دیتا ہے۔ سوئٹزرلینڈ کی وزارت خارجہ جنیوا مذاکرات میں عمان کی سہولت کاری اور 28 فروری کے حملوں کی تصدیق کرتی ہے۔ برطانوی دارالعوام کی لائبریری 28 فروری کو جنگ کے آغاز اور 8 اپریل کو جنگ بندی کے اعلان کا ریکارڈ رکھتی ہے۔