عاموس عوز، اے بی ییہوشوع اور ڈیوڈ گروسمن ناول نگار تھے جنہوں نے عوامی مباحث میں بھی حصہ لیا، لیکن ان سب کا سیاسی کردار ایک جیسا نہیں تھا۔ ان کی بین الاقوامی ادبی پذیرائی کو واضح طور پر سمجھنے کا بہتر طریقہ یہ ہے کہ نامزد تراجم اور انعامات بیان کیے جائیں، نہ کہ یہ دعویٰ کیا جائے کہ کتابوں نے اسرائیل کے بارے میں دنیا کی رائے بدل دی۔
عوز اور شالوم اخشا کا قیام
شالوم اخشا 1978 میں مصری صدر انور سادات کے اسرائیل کے دورے اور وزیرِ اعظم مناحیم بیگن کے نام ایک کھلا خط شائع ہونے کے بعد قائم ہوئی۔ اس خط پر 348 ریزرو فوجی افسران اور سپاہیوں نے دستخط کیے تھے، جنہوں نے حکومت سے امن کے موقع سے فائدہ اٹھانے کی اپیل کی۔ عوامی حمایت نے اس خط کو تحریک میں بدلنے میں مدد دی۔ عوز بعد میں شالوم اخشا کی نمایاں شخصیات میں شامل ہوئے، جیسا کہ ان کی مصنفانہ سوانح بتاتی ہے؛ وہ افسران کے خط کے مصنف نہیں تھے، اور اس گروہ کے قیام کا سہرا صرف انہیں نہیں دینا چاہیے۔
ییہوشوع نے بھی مضامین لکھے اور یہودی زندگی اور اسرائیلی پالیسی پر عوامی گفتگو کی۔ اسرائیلی ادارۂ عبرانی ادب کے ریکارڈ کے مطابق انہوں نے ناول، ڈرامے اور مضامین شائع کیے اور حیفہ یونیورسٹی میں تدریسی کام کیا۔ ان کے عوامی دلائل کو ان کے اپنے مؤقف کے طور پر پڑھنا چاہیے، ساتھ ہی ان کے افسانوی ادب کے مختلف نقطہ ہائے نظر کو بھی ملحوظ رکھنا چاہیے۔
گروسمن بطور عوامی ادیب
گروسمن نے افسانوی ادب، بچوں کی کتابیں، ڈراما اور غیر افسانوی نثر شائع کی ہے۔ ان کی عوامی تحریروں اور تقریروں میں اسرائیلی معاشرے اور سیاسی سوالات پر بات ہوئی، جبکہ ان کے ناول خاندانوں اور افراد کا جائزہ لیتے ہیں۔ 2006 کی لبنان جنگ کے بعد وہ عوز اور دوسرے ادیبوں کے ساتھ لڑائی سے متعلق عوامی اپیلوں میں شامل ہوئے؛ دو روز بعد ان کا بیٹا اُری لڑائی میں مارا گیا۔ یہ ترتیب گروسمن کی سوانح کا حصہ ہے، اس بات کا ثبوت نہیں کہ ان کی تحریر نے سیاسی نتیجہ پیدا کیا۔
انعامات اور تراجم
بین الاقوامی انعامات مخصوص تصانیف کی قارئین میں مقبولیت اور پذیرائی کا ریکارڈ فراہم کرتے ہیں۔ بکر پرائز کی انعام یافتگان کی فہرست میں 2017 کا انعام درج ہے۔ 2017 کا انٹرنیشنل بکر پرائز گروسمن کی A Horse Walks into a Bar کو ملا، جس کا ترجمہ جیسیکا کوہن نے کیا تھا؛ یہ انعام مصنف اور مترجم دونوں کو تسلیم کرتا ہے۔ یہ صرف گروسمن کے لیے انعام نہیں تھا۔ اسرائیلی ادارۂ عبرانی ادب کے مطابق ان کی کتابوں کے 35 زبانوں میں تراجم ہو چکے ہیں۔
ییہوشوع کی Spanish Charity، جو انگریزی میں The Retrospective کے نام سے شائع ہوئی، کو 2012 میں پرِی میدیسی اترانژے ملا۔ عوز کو دیگر اعزازات کے ساتھ 1998 میں اسرائیل پرائز اور 2007 میں پرنس آف آسٹوریاس ایوارڈ ملا، جیسا کہ ان کے مصنفانہ ریکارڈ میں درج ہے۔ یہ ٹھوس اعزازات ان کے کام کی رسائی دکھاتے ہیں، مگر بین الاقوامی سیاسی رائے پر قابلِ پیمائش اثر کا دعویٰ نہیں کرتے۔
مصنفین کے افسانوی ادب کے بارے میں مزید پڑھیے: عوز، ییہوشوع، اور گروسمن۔