بریشیٹ 2، اسپیس آئی ایل کے 2019 کے قمری مشن کے بعد کا منصوبہ ہے۔ اسرائیل خلائی ایجنسی کے مطابق مشن کے تصور میں دو قمری لینڈنگ اور ایک ایسا مادر خلائی جہاز شامل ہے جس کے قمری مدار میں رہنے کا ارادہ ہے؛ ناسا اور اٹلی کے ساتھ بین الاقوامی معاہدوں میں تعاون، آلات اور سائنسی منصوبہ بندی کا ذکر ہے۔
معاہدوں میں کیا طے ہے
فروری 2023 میں اسرائیل خلائی ایجنسی اور ناسا نے سائنسی تعاون کے لیے ایک بیانِ ارادہ پر دستخط کیے۔ ناسا کی متوقع معاونت میں ایک اسپیکٹرومیٹر، مواصلاتی نیٹ ورک کی مدد، قمری مدار کے تجسسی مدارگیر کے ساتھ رابطہ کاری، اور لینڈنگ کی جگہ کے انتخاب اور سائنسی ٹیم میں شرکت شامل تھی۔ ناسا کے بیان سے متعلق ایجنسی کے اعلان میں اس وقت 2025 کے لانچ کا منصوبہ بھی بیان ہوا تھا؛ وہ وقت سے متعلق ہدف اب لانچ کی موجودہ مصدقہ تاریخ نہیں ہے۔
جنوری 2025 میں اسرائیل خلائی ایجنسی اور اطالوی خلائی ایجنسی نے تعاون کے لیے مفاہمت کی یادداشت پر دستخط کیے۔ اس اعلان میں دو لینڈنگ، قمری سطح پر اور اس کے گرد و نواح میں سائنسی تجربات، اور ایک مادر خلائی جہاز کا ذکر ہے جسے تقریباً پانچ سال تک چاند کے گرد مدار میں رہنا ہے۔ اعلان کے مطابق مشترکہ سائنسی ٹیم تحقیقی ترجیحات طے کرے گی اور تجربات کی منصوبہ بندی کرے گی۔ یہ اعلان کردہ مشن کے اہداف ہیں، اس بات کا ثبوت نہیں کہ خلائی جہاز لانچ ہو چکا ہے۔ اسرائیل اور اٹلی کے معاہدے کا اعلان موجودہ طور پر عوام کے سامنے بیان کردہ فریم ورک پیش کرتا ہے۔
ٹیکنالوجی اور بین الاقوامی شراکت دار
جرمنی کے ڈی ایل آر کے ساتھ 2023 کے ایک معاہدے میں ایسا نیویگیشن الگورتھم شامل ہے جو قمری تصاویر کا تجزیہ اور نزول کے دوران گڑھوں کی شناخت کرے گا۔ اسرائیلی ایجنسی کی ڈی ایل آر تعاون کی تازہ کاری الگورتھم کا منصوبہ بند کردار بیان کرتی ہے۔ اس میں پہلے کی شیڈول توقعات بھی درج ہیں، جنہیں موجودہ لانچ وعدہ نہیں سمجھنا چاہیے۔
لہٰذا مشن کی مصدقہ حیثیت یہ ہے کہ تعاون کا ایک متعین عمل جاری ہے، جس میں سائنس کے اہداف اور ہارڈویئر کے منصوبہ بند کردار بیان کیے گئے ہیں۔ انجینئرنگ اور مشن کی منصوبہ بندی آگے بڑھنے کے ساتھ حتمی تاریخیں، لینڈنگ کے مقامات اور تجربات کی تفصیلی فہرست بدل سکتی ہے۔ پہلے مشن کی انجینئرنگ اور لینڈنگ کی کوشش بریشیٹ 1 میں بیان ہوئی ہے۔