سابق سوویت یونین سے آنے والے تارکینِ وطن ووٹر، امیدوار اور جماعتی منتظم بن کر اسرائیلی سیاست میں شامل ہوئے۔ ان کے مسائل میں روزگار، رہائش، عبرانی زبان کی خدمات اور ان تارکینِ وطن کی حیثیت شامل تھی جو قانونِ واپسی کے تحت اہل تھے مگر آرتھوڈوکس مذہبی حکام انہیں یہودی تسلیم نہیں کرتے تھے۔ سیاسی شرکت متنوع تھی: روسی زبان بولنے والے اسرائیلی ایک ہی انتخابی دھڑے کی صورت میں ووٹ نہیں دیتے تھے۔
تارکینِ وطن کی جماعتیں کنیسٹ میں پہنچیں
1996ء میں نتان شارانسکی نے سابق سوویت یونین سے آنے والے تارکینِ وطن کی نمائندگی کے لیے یسرائیل بعالیہ قائم کی۔ جماعت نے 1996ء کے انتخابات میں سات نشستیں جیتیں اور حکمران اتحاد میں شامل ہوئی۔ اس انتخابی کامیابی نے اتحاد کی سودے بازی میں تارکینِ وطن کے انضمام کو براہِ راست آواز دی؛ تاہم جماعت کو اپنے بجٹ پر اختیار نہیں ملا۔
بعد میں اویگدور لیبرمین نے یسرائیل بیتینو قائم کی، جسے روسی زبان بولنے والے ووٹروں کی نمایاں حمایت بھی حاصل ہوئی اور وہ بار بار اتحادی مذاکرات میں شریک ہوئی۔ ان جماعتوں نے تارکینِ وطن کو قومی سیاست میں آنے کا راستہ دیا، جبکہ بہت سے دوسرے افراد نے پہلے سے قائم جماعتوں کی حمایت کی۔ کنیسٹ کا 1996ء کے انتخابات کا ریکارڈ انتخاب کی تاریخ بتاتا ہے؛ شارانسکی کو عوامی شخصیت بنانے والی تحریک کا تعارف یہودی ورچوئل لائبریری کے سوویت یہودی سرگرمیوں کے بیان میں ہے۔
اتحادوں نے ووٹوں کو پالیسی مباحث میں بدلا
اسرائیل کا متناسب انتخابی نظام جماعتوں کو ووٹوں میں ان کے حصے کے مطابق کنیسٹ کی نشستیں دیتا ہے، اور حکومتیں اتحادی جماعتوں کے ذریعے بنتی ہیں۔ سات ارکان والی جماعت کابینہ کے عہدوں اور پالیسی وعدوں پر بات چیت کر سکتی تھی، مگر اکیلے حکومتی پالیسی طے نہیں کر سکتی تھی۔ کنیسٹ کے انتخابی نظام کی وضاحت انتخابی قوت، نشستوں اور اتحاد کی تشکیل کا باہمی تعلق بیان کرتی ہے۔
تارکینِ وطن کے نمائندوں نے جذب و انضمام اور عوامی خدمات تک رسائی کے عملی مسائل اٹھائے۔ مذہبی حیثیت اور شادی بھی سیاسی سوالات بنے: کچھ تارکینِ وطن قانونِ واپسی کے تحت ہجرت کے اہل ہو سکتے تھے لیکن یہودی شادی کے لیے آرتھوڈوکس معیار پر پورا نہیں اترتے تھے۔ ذاتی حیثیت اور مذہب تبدیل کرنے سے متعلق مباحث میں یہ فرق آج بھی مرکزی اہمیت رکھتا ہے۔ دیکھیے غیر یہودی اہلِ خانہ پر قانونِ واپسی کا اطلاق۔
ووٹ دینے کے رجحانات متنوع رہے
روسی زبان بولنے والے ووٹر وقت کے ساتھ مختلف جماعتوں اور سیاسی سمتوں کی حمایت کرتے رہے ہیں۔ ان کے انتخاب میں مشترک مفادات کے ساتھ انفرادی نظریات بھی شامل ہوتے ہیں۔ اس برادری کی موجودگی نے ہجرت اور مذہبی حیثیت کے مسائل کو عوامی بحث میں زیادہ نمایاں کیا، جبکہ اسرائیل کے اتحادی نظام نے جماعتوں کو وسیع تر انتخابی حلقوں سے مذاکرات پر مجبور کیا۔
روسی زبان بولنے والے اسرائیلی سابق سوویت خطے میں ذاتی، خاندانی اور ثقافتی روابط برقرار رکھتے ہیں۔ تارکینِ وطن کی جماعتوں نے بھی نمائندگی حاصل کی، اتحادوں میں شمولیت کی اور انضمام کے مسائل کنیسٹ میں اٹھائے۔