سعودی عرب اور اسرائیل کو ایرانی عسکری صلاحیتوں اور ایران کی حمایت یافتہ گروہوں کے حملوں پر تشویش ہے، لیکن مشترکہ خدشات باضابطہ دو طرفہ دفاعی اتحاد کا ثبوت نہیں۔ اسرائیل اور سعودی عرب کا کوئی عوامی معاہدہ مربوط فضائی دفاعی نظام قائم نہیں کرتا۔ آئندہ کسی بھی رابطہ کاری کے لیے شرکا، کمان کے انتظامات اور ریڈار و انتباہی معلومات کے تبادلے کے ضابطے متعین کرنا ہوں گے۔
ایران اور علاقائی رابطہ کاری
ایران نے خطے بھر کے مسلح گروہوں کو مدد دی ہے، جن میں یمن کی حوثی تحریک شامل ہے۔ اسرائیل اور سعودی عرب دونوں کے پاس ایرانی میزائلوں اور ڈرونز پر نظر رکھنے کی وجوہ ہیں، اور امریکہ نے علاقائی شراکت داروں کے ساتھ فضائی اور میزائل دفاع پر کام کیا ہے۔ تاہم اپریل 2024 میں اسرائیل پر ایران کے براہِ راست حملے کے خلاف دفاع ایک کثیر ملکی کوشش تھی جس میں امریکہ اور دوسرے شراکت دار شامل تھے؛ یہ بذاتِ خود مستقل سعودی اسرائیلی اتحاد کا ثبوت نہیں۔ CRS رپورٹ موجودہ امریکہ سعودی سلامتی تعاون اور زیرِ بحث مجوزہ معاہدوں کی وضاحت کرتی ہے۔
بحیرۂ احمر کے حملوں سے کیا بدلا
10 جنوری 2024 کو اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل نے قرارداد 2722 منظور کی، جس میں 19 نومبر 2023 سے تجارتی اور کاروباری جہازوں پر حوثیوں کے کم از کم دو درجن حملوں کی مذمت کی گئی؛ اسی تاریخ کو حوثیوں نے Galaxy Leader اور اس کے عملے کو قبضے میں لیا تھا۔ قرارداد نے حملوں کے خاتمے کا مطالبہ کیا اور جہاز رانی کے حقوق اور آزادیوں کی اہمیت کی توثیق کی۔ اقوامِ متحدہ کے ماہرین کے ایک بعد کے پینل نے نتیجہ اخذ کیا کہ حوثیوں نے بحیرۂ احمر اور خلیجِ عدن میں جہازوں کو بلاامتیاز نشانہ بنایا، باوجود اس دعوے کے کہ ان کے اہداف اسرائیل سے وابستہ جہاز تھے۔
اس مہم سے تجارتی جہازوں کے عملے کو خطرہ لاحق ہوا اور بحرِ ہند کو نہرِ سویز اور بحیرۂ روم سے ملانے والا راستہ متاثر ہوا۔ اقوامِ متحدہ کا قرارداد 2722 کا خلاصہ کونسل کے نتائج اور مطالبے کا ریکارڈ ہے؛ اقوامِ متحدہ کے پینل کی رپورٹ وسیع تر صورتِ حال درج کرتی ہے۔
تعاون کہاں ممکن ہے
جہاز رانی کا تحفظ اور میزائل داغے جانے کی پیشگی اطلاع بحیرۂ احمر کے آس پاس کی ریاستوں کے عملی مفادات ہیں۔ علاقائی انتظامات میں معلومات کا تبادلہ، جہازوں کے حفاظتی قافلے یا مربوط فضائی دفاع شامل ہو سکتے ہیں، لیکن ہر انتظام کے وجود اور دائرے کو قابلِ انتساب شواہد کی بنیاد پر بیان کرنا چاہیے۔ جنوری 2024 کی اقوامِ متحدہ کی قرارداد ریاستوں کو بحری سلامتی اور صلاحیت سازی میں تعاون کی ترغیب دیتی ہے؛ یہ سعودی اسرائیلی نظام قائم نہیں کرتی۔
باضابطہ تعلقات کے قیام سے کھلے رابطے آسان ہو سکتے ہیں اور اسرائیلی و خلیجی سلامتی پالیسی زیادہ براہِ راست مربوط ہو سکتی ہے۔ اس سے خود بخود مشترکہ فوج قائم نہیں ہوگی اور نہ یہ ضمانت ملے گی کہ ریاض ہر کارروائی میں شریک ہوگا۔ اہم معاملات محفوظ جہاز رانی، ایرانی اور حوثی حملوں سے تحفظ، اور شواہد سے زیادہ وسیع تعاون کا دعویٰ نہ کرنا ہیں۔ وسیع تر سفارتی پیکیج کے لیے جائزہ دیکھیں۔