اسرائیل کے عرب شہری ووٹر، امیدوار اور کنیسٹ کے ارکان کی حیثیت سے قومی انتخابات میں حصہ لیتے ہیں۔ ان کی نمائندگی کے کئی راستے رہے ہیں: مپائی سے وابستہ ابتدائی فہرستیں، کمیونسٹ پارٹی اور حدش، آزاد عرب قیادت والی جماعتیں، مشترکہ انتخابی فہرستیں، اور اسرائیل کی بڑی جماعتوں کی فہرستوں میں شامل امیدوار۔ کنیسٹ کا پہلا انتخاب 1949 میں ہوا۔
جماعتی اتحادوں، انتخابی حدود، ٹرن آؤٹ اور اتحادی حکومت میں شمولیت کے فیصلوں کے ساتھ نمائندگی بھی بدلتی رہی ہے۔ یہ صفحات ان تبدیلیوں اور ان سے پیدا ہونے والے پالیسی سوالات کا جائزہ لیتے ہیں۔
جماعتیں اور اتحاد
عرب قیادت والی سیاست کوئی ایک متحد بلاک نہیں۔ حدش یہودی اور عرب بائیں بازو کی سیاست کو یکجا کرتی ہے؛ بلد شہری و قومی پلیٹ فارم پیش کرتی ہے؛ تعل احمد طیبی سے وابستہ ہے؛ اور راعم کا تعلق اسلامی تحریک کی جنوبی شاخ سے ہے۔ جماعتیں مشترکہ فہرست میں اکٹھی ہوئیں، خصوصاً 2015 سے، پھر بعد کے انتخابات میں الگ الگ مقابلہ کیا۔ ابتدا کنیسٹ میں ابتدائی نمائندگی سے کریں، پھر حدش، بلد اور تعل کا موازنہ کریں، یا راعم اور اتحادی حکومت میں شمولیت کے بارے میں پڑھیں۔
ووٹ، نشستیں اور حکومت
مشترکہ فہرست نے 2015 میں 13 اور 2020 میں 15 نشستیں جیتیں۔ 2022 میں راعم اور حدش تعل نے پانچ پانچ نشستیں جیتیں، جبکہ بلد انتخابی حد سے کم رہی۔ برادری کے مخصوص ٹرن آؤٹ کے اندازے قومی ٹرن آؤٹ سے مختلف ہوتے ہیں اور انتخابات کے درمیان بدلتے ہیں۔ انتخابی ریکارڈ اور 2022 کے ووٹ کا تجزیہ بنیادی اعداد فراہم کرتے ہیں۔ واقعات کی ترتیب کے لیے مشترکہ فہرست اور ووٹر ٹرن آؤٹ دیکھیں۔
2021 میں راعم حکومتی اتحاد میں شامل ہوئی اور پالیسی وعدوں پر مذاکرات کیے۔ انتخابی قانون امیدواروں اور فہرستوں کو نااہل قرار دینے کی وجوہ اور طریقۂ کار بھی متعین کرتا ہے؛ دفعہ 7A کی وضاحت ان قواعد کو بیان کرتی ہے۔ حکومتی ترقیاتی منصوبوں اور بلدیاتی مالی اعانت کا احاطہ بجٹ کے صفحے پر کیا گیا ہے۔